ج- سورۂ عادیات اور اس کی تفسیر:
﴿بِسۡمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحۡمَـٰنِ ٱلرَّحِمِ (شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے)۔
﴿وَالْعَادِيَاتِ ضَبْحًا ﴾( ہانپتے ہوئے دوڑنے والے گھوڑوں کی قسم!) ﴿فَالْمُورِيَاتِ قَدْحًا ﴾(پھر ٹاپ مار کر آگ جھاڑنے والے گھوڑوں کی قسم!) ﴿فَالْمُغِيرَاتِ صُبْحًا ﴾ (پھر صبح کے وقت دھاوا بولنے والے گھوڑوں کی قسم) ﴿فَأَثَرْنَ بِهِ نَقْعًا ﴾ (پس اس وقت گرد وغبار اڑاتے ہیں) ﴿فَوَسَطْنَ بِهِ جَمْعًا ﴾ (پھر اسی کے ساتھ فوجیوں کے درمیان گھس جاتے ہیں). ﴿إِنَّ الْإِنْسَانَ لِرَبِّهِ لَكَنُودٌ ﴾ (یقیناً انسان اپنے رب کا بڑا ناشکرا ہے) ﴿وَإِنَّهُ عَلَى ذَلِكَ لَشَهِيدٌ ﴾ (اور یقیناً وه خود بھی اس پر گواه ہے) ﴿وَإِنَّهُ لِحُبِّ الْخَيْرِ لَشَدِيدٌ ﴾ (یہ مال کی محبت میں بھی بڑا سخت ہے)۔ ﴿أَفَلَا يَعْلَمُ إِذَا بُعْثِرَ مَا فِي الْقُبُورِ ﴾ (کیا اسے وه وقت معلوم نہیں جب قبروں میں جو کچھ ہے نکال لیا جائے گا) ﴿وَحُصِّلَ مَا فِي الصُّدُورِ ﴾ (اور سینوں کی پوشیده باتیں ظاہر کر دی جائیں گی) ﴿إِنَّ رَبَّهُمْ بِهِمْ يَوْمَئِذٍ لَخَبِيرٌ﴾ (بیشک ان کا رب اس دن ان کے حال سے پورا باخبر ہوگا)۔ [سورۂ عاديات: ١ - ١١]
تفسیر:
(1) اللہ تعالی نے ان گھوڑوں کی قسم کھائی ہے جو اتنی تیزی سے دوڑتے ہیں کہ ان کے ہانپنے کی آواز سنائی دیتی ہے۔
(2) نیز ان گھوڑوں کی قسم کھائی ہے جو اتنے زور سے پتھروں پر ٹاپ مارتے ہیں کہ چنگاری نکل آتی ہے۔
(3) اور ان گھوڑوں کی قسم کھائی ہے جو صبح دم دشمنوں پر دھاوا بولتے ہیں۔
(4) اور ان کے دوڑنے کی وجہ سے گرد اڑتی ہے۔
(5) پس اپنے سواروں کے ساتھ دشمنوں کی صفوں میں داخل ہو جاتے ہیں۔
(6) انسان اس خیر کو بڑا روکنے والا ہے جو اس کا رب اس سے چاہتا ہے۔
(7) اور وہ بذات خود اپنے خیر سے باز رہنے کا گواہ ہے اور اس بات کے واضح ہونے کى بنا پر اس کا انکار بھى نہیں کر سکتا۔
(8) اور دولت کی بے انتہا محبت میں وہ بخیلی کرتا ہے۔
(9) جب اللہ تعالی مردوں کو زندہ کرے گا اور حساب وکتاب اور جزا وسزا کے لیے انہیں زمین سے باہر نکالے گا تو کیا دنیاوی زندگی سے فریب کھانے والا یہ انسان یہ نہیں جان جاۓ گا کہ معاملہ ویسا نہیں تھا جیسا وہ گمان کرتا تھا۔
(10) اور نیت، اعتقاد یا جو کچھ بھی دلوں میں ہوگا وہ با ہر آ جاۓ گا۔
(11) اس دن ان کا رب ان کے حال سے پوری طرح باخبر ہوگا‘ اس سے بندوں کی کوئی بھی چیز مخفی نہیں ہوگی‘ اور اللہ تعالی انہیں اس کا بدلہ دے گا۔